وَرَفَعنَا لَکَ ذِکرَک –
اور ہم نے اپکا ذکر بلند کر دیا ٩٤:٤ 
آیئے صرف اس ایک چھوٹی سی  آیت کواگر  صرف اس نظریے سے ہی دیکھیں آخر اس کا مطلب ہے کیا... 
ایک مسلمان دن میں کم از کم 42 رکاتیں پڑھتا ہے ۔ یعنی اکیس سلام اور بیالیس درود صرف ایک مسلمان ایک دن میں بھیجتا ہے ۔ اگر ایک مسلمان کی اوسط عمر پچاس سال بھی فرض کی جائے تو یہ 18250 دن بنتے ہیں ۔ یعنی ایک مسلمان اپنی زندگی کی صرف نمازوں میں تین لاکھ تراسی ہزار دو سو پچاس مرتبہ سلام اور سات لاکھ چھیاسٹھ ہزار پانچ سو مرتبہ درود بھیجتا ہے ۔ نمازوں کے علاوہ جو درود و سلام بھیجے جاتے ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں ۔ اور ابھی یہ صرف ایک مسلمان کا حساب ہے ۔ اس وقت دنیا میں سوا ارب کے قریب مسلمان ہیں ۔   اگر میں سات لاکھ چھیاسٹھ ہزار پانچ سو کو سوا ارب سے ضرب دوں تو جواب کیا آئے گا ؟
وَرَفَعنَا لَکَ ذِکرَک
بات ابھی ختم نہیں ہوئی ۔
یہ صرف ان مسلمانوں کا حساب ہے جو اس وقت روئے زمین پر موجود ہیں ۔ پچھلے 1400 سو سالوں میں جو مسلمان گزر گئے ان کا حساب ابھی باقی ہے ۔
مگر بات یہاں بھی ختم نہیں ہوتی
۔ ﷲ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں ۔
ان ﷲ وملائکتہ یصلون علی النبی ۔ یا ایھا الذین آمنوا صلو علیہ وسلمو تسلیما
"بے شک ﷲ تعالیٰ اور فرشتے نبی پر درود و سلام بھیجتے ہیں ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم بھی کثرت سے نبی پر درود و سلام بھیجا کرو ۔"  سورہ الاحزاب ۔ 56 
زمین پر جس مقام پر مسلمانوں کا کعبہ ہے اس کے عین اوپر آسمان پہ فرشتوں کا کعبہ ہے جسے بیت المعمور کہتے ہیں ۔ اس بیت المعمور میں ایک وقت میں ستر ہزار فرشتے طواف کرتے ہیں اور جو فرشتہ ایک بار طواف کرتا ہے اس کی دوبارہ قیامت تک باری نہیں آتی ۔ اب کون حساب لگائے گا فرشتوں کی تعداد کا اور ان کے بھیجے ہوئے درود و سلام کی تعداد کا ؟ واضح رہے کہ فرشتوں کا کام ہی محض عبادت ہے 
وَرَفَعنَا لَکَ ذِکرَک.

Comments

Popular posts from this blog

PRAYER AND ZIKR